ٹرانس جینڈر بل اور جمعیت علمائے اسلام، حقائق آپکے سامنے
ٹرانس جینڈر بل اور جمعیت علمائے اسلام، حقائق آپکے سامنے
تحریر :
ٹرانسجینڈر بل 2018 ن لیگ کے دور حکومت میں پیش کیا گیا اور مزے کی بات ہے کہ اس طریقے سے پاس کروایا گیا کہ اکثر پارلیمینٹرینز اسکی حساسیت کا ادراک ہی نہ کر سکے۔
کیونکہ اس بل کے محرک ایک ایسی پارٹی سے تھے جن کا باقاٸدہ طور پر ہم جنس پرست یورپی تنظیموں سے تعلق تھا انہوں نے خواجہ سراٶں کے حقوق اور انسانی بنیادی حقوق کا سہارا لیکر تمام ممبران قومی اسمبلی کو اعتماد میں لے لیا۔
جبکہ دوسری جانب جو کاپیاں ممبران اسمبلی کو فراہم کی گٸیں تھیں ان میں قابل اعتراض شقیں بھی شامل نہ تھیں مگر جب اسے قانون کا حصہ بنایا گیا تو اس میں دیگر دوسری شقیں بھی شامل کر دی گٸیں۔
یہ بعینہ ایسے ہوا جیسے 2017میں ایک بل "الیکشن اصلاحات" کے نام پر پاس کیا گیا اور جس کمیٹی نے وہ تجاویز مرتب کیں اس کے ممبران میں مولانا عبد الغفور حیدری' حافظ حمداللہ، لالا سراج الحق سمیت شفقت محمود وزیر قانون زاہد حامد انوشہ رحمان ودیگر تھے۔
سب نے اتفاق راۓ سے منظور کر لیا مگر جب وہ سینیٹ میں پیش کیا تو اس میں ختم نبوت کے متعلق حلف نامہ تبدیل کر دیا گیا تھا یہ تو اللہ بھلا کرے حافظ حمد اللہ کا جس نے بروقت دیکھا اور لالا سراج کو جاکر دکھایا تو دونوں راہنماٶں نے کہا یہ ہمارے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔
پہلے نہیں تھا یہ بعد میں شامل کر دیا گیا اور اس پر پر زور اواز اٹھاٸی اور مولانا فضل الرحمن کے کہنے پر نواز شریف نے راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی بناٸی جس نے بتایا کہ اسے شامل کرنے والے پی ٹی آٸی کے شفقت محمود شیریں مزاری جبکہ انوشہ رحمان اور زاہد حامد قصور وار ہیں۔
یہ حوالہ اسلام آباد ہاٸی کورٹ کے چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بھی دہرایا اور ان کو ریموو کردیا گیا وزیر قانون سے استعفی لیا گیا اور دوبارہ ن لیگ نے نماٸندگی نہیں دی۔
جبکہ دوسری جانب پی ٹی آٸی نے شفقت محمود کو نہ صرف نماٸندگی دی بلکہ اسے ایک اہم وفاقی وزارت تعلیم بھی دیدی (یہ وزارت کیوں دی یہ بھی الگ کہانی ہے)
پوری قوم کو سنگل نیشنل کریکولم کے خوشنمإ نام پر بے وقوف بنایا گیا۔
مگر درحقیقت یہ یہود کی ایک گہری سازش تھی جسے ستمبر 2019 میں عمران خان صاحب نے ایک آسٹرین نژاد امریکی یہودی جارج سوروس سے فنڈز لے کر مدارس کے نصاب کو کو تبدیل کرنے کے لیے ایک پلان بنایا۔
جس کی تفصیل کوٸی بھی بڑے شوق سے مجھ سے حاصل کر سکتا ہے اور جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہودی سازشیں کس طرح ہمارے ملک میں اپنے ایجنٹوں کے زریعے چلاٸی جاتی ہیں۔
بہرحال ٹرانس جینڈر بل کے اوپر سب سے پہلے جس نے اواز اٹھاٸی وہ جمعیت علماء اسلام کی ممبر قومی اسمبلی نعیمہ کشور صاحبہ تھی جس نے بل پراپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوۓ اپنی تجاویز پیش کی اور جمعیت علما ٕ اسلام کے مٶقف کی ترجمانی کرتے ہوۓ اس بل کی مخالفت کی۔
اور جمعیت علمائے اسلام نے اس پر اپنا مٶقف اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت میاں نواز شریف کے سامنے رکھا مگر حکومت کا وقت ختم ہوگیا اور جمعیت کی تجاویز اسپیکر کے ٹیبل تک نہ پہنچ سکیں اور اس کے بعد پی ٹی آٸی نے اسے درخور اعتناء ہی نہ سمجھا بلکہ اسی سلسے کو آگے بڑھانے میں پچھلی تمام حکومتوں کو پیچھے چھوڑدیا
اب کچھ لوگ کسی کے اشارے پر پوچھتے ہیں آپ نے اس بارے کیا کیا ہے۔
درحقیقت بروقت جو مناسب ہوتا ہے وہ کیا جاتا ہے مگر اپنی قوت اور اپنی تعداد کے مطابق کیا جاتا ہے
یاد رہے پاکستان کی حکومت جن پارٹیوں کو ملی ہے انہوں نے ہمیشہ سے ہی عالمی قوتوں کی نظر میں نمایاں رہنے کے لیے اسلام مخالف اقدامات کیے ہیں۔
باقی اس طرح کے بل اس لیے پاس ہوجاتے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کے پاس 5 فیصد ممبر ہوتے ہیں جبکہ 95فیصد اس طرح کے قوانین کے حق میں ہوتے ہیں جنہیں آپ نے ہی ووٹ دیکر اسمبلیوں میں بھیجا ہوتا ہے۔
جب انتخابات کا وقت ہوتا ہے تو آپ ہی مذہبی طبقے کو کمزور کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔
سابقہ حکومت کو مذہبی طبقہ بلاوجہ ہی یہودی ایجنٹ نہیں کہتا تھا بلکہ اس کے عمل وکرتوت اور اسلامی ملک میں مغربی تہذیب کی آبیاری کی وجہ سے کہتا تھا۔
جیسا کہ گزشتہ دور حکومت میں پی ٹی آٸی نے چند بل پاس کرواۓ یاد رہے ایف اے ٹی ایف کی آڑ لے کراٹھاٸیس نٸے قوانین
۔۔۔جی ہاں۔۔۔۔۔
اٹھاٸیس نٸے قوانین بنائے گئے جن میں سے چودہ بل صرف اور صرف مذہبی طبقے اور اسلام مخالف بلوں پر مشتمل تھے۔
ایف اے ٹی ایف کے کہنے پر اوقاف ترمیمی ایکٹ 2020 اسمبلی سے منظور کرایا گیا جس کے نتیجے میں تمام مساجد اور مدارس کا انتظام و انصرام عالمی اسٹیبلشمنٹ کے پاس چلا گیا اورنہ صرف مدارس ومساجد بلکہ اسی بل کےضمن میں پاکستانی قوم کی معیشت تک عالمی صیہونی طاقتوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دی گٸی دراصل یہ ایکٹ معاشرے سے مساجد و مدارس کے کردار کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے منظور کیا گیا۔
رسوائے زمانہ بل"ڈومیسٹک وائلینس بل" منظور کرایا گیا تھا مگر اس قوم کی خوش قسمتی کہ اسے چیلنج کر دیا گیا اور ااسلامی نظریاتی کونسل سے مسترد کروادیا گیا اس لیے کچھ ناعاقبت اندیش وزیروں کی نظر میں اسلامی نظریاتی کونسل کھٹکتی ہے-
اس بل کو بظاہر ڈومیسٹک وائلینس کا نام دیاگیا لیکن اصل میں یہ اسلامی نظریے،پاکستانی قوم کی امنگوں اور مشرقی روایات کے خاتمے کا بل تھا اور مملکت خداداد پاکستان میں مغربی تہذیب کی آبیاری کے لیے آب وگل کا بندوبست کرنے کی ایک کوشش تھی یا یوں سمجھ لیجیے کہ یہ بل کسی این جی او کے دستورمنشور کاحصہ تھا جس میں عورت مارچ،ہم جنس پرستی سمیت گرل فرینڈ اور بواۓ فرینڈ کلچر کو فروغ دیے جانے کا ایک بھونڈا طریقہ تھا۔
جس کا لازمی نتیجہ کچھ عرصہ بعد ہمارے معاشرتی، اخلاقی اور خاندانی نظام کی تباہی تھا۔
اس بل کی تمام شقیں اسلامی تعلیمات سے بغاوت کا منہ بولتا ثبوت تھیں،اس کا ہر ہر جملہ ہماری روایات کی دھجیاں بکھیرتا نظر آتا تھا جبکہ پاکستانی قانون کو کھلم کھلا چیلنج تھا-
اس کی ایک شق یہ بھی تھی کہ اگرکسی کی بیٹی اپنے فرینڈ کے ساتھ گپ شپ لگائے،گھومے پھرے تو اباجی یا بھائی جان اسکو منع نہیں کرسکتے،ورنہ یہ ایموشنل ابیوزسمجھاجائے گا۔ یہ اس کاپرائیویٹ معاملہ ہے اور اس کی شخصی آزادی کے خلاف ہے۔
اسی طرح اگر کسی کی بیوی اپنا جسم اپنی مرضی پر عمل کرتی ہے تو اسے شوہر روک نہیں سکتا ورنہ عدالت سے رجوع کرنے پر شوہر اپنی بیوی کے ساتھ جبکہ والد اپنی بیٹی، بیٹے کے ساتھ ایک چھت تلے نہیں رہ سکتے بلکہ جب تک کیس چلتا رہے گا ان کے بازو میں Gps ٹریکنگ سسٹم والا کڑا ڈالا جاۓ گا جسے ہر کوٸی کہے گا وہ دیکھو بیوی کا ملزم جارہا ہے۔
جبکہ سزا میں 6مہینے سے 3سال تک قید اور 10ہزار سے 1لاکھ تک جرمانہ ہوگا جبکہ اس جرم میں معاونت کرنے والا بھی شریک جرم تصور کیا جاۓ گا یعنی اگر والدہ بھی والد کا ساتھ دیتی ہے تو وہ بھی اپنے ہی گھر میں اپنی بیٹی بیٹے کے ساتھ نہیں رہ سکے گی جس کا لازمی نتیجہ اولڈ ہوم کی صورت میں نکلے گا جس کا بندوبست کچھ ارام گاہوں کی صورت میں ہوچکا ہے اور کچھ بچا کھچا این جی اوز کر دیںں گی۔
اسی مملکت خداداد میں اسلام کے خلاف بل پیش کیا جاتا ہے کہ کوٸی شخص اٹھارہ سال سے کم عمر میں اسلام قبول نہیں کر سکتا اگرچہ فاتح خیبر حیدرکرار علی المرتضیؓ دس سال کی عمر میں اسلام قبول کرتے ہیں۔
جمعیت علماء اسلام قیام پاکستان سے بہت عرصہ قبل معرض وجود میں آٸی اور اس کو ہمیشہ سے اکابر علماء امت و زعماء ملت کی سرپرستی ورہنمائی حاصل رہی اور اپنی بنیاد بلکہ سرشت سے ہی تمام فتنوں کی سرکوبی کا فریضہ سرانجام دیتی رہی ہے۔
قیام پاکستان کے بعد بھی اس جماعت نے تمام فتنوں کا مقابلہ عوامی تاٸید و حماٸیت سے کیا اور الحَمْدُ ِلله ایک صدی قبل شروع ہوتی ہوٸی قادیانی تحریک کا سر پاکستانی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام کے ہاتھوں مفتی محمود رحمہ اللہ کے زریعے کچلا گیا جو کہ امت کے سر پر تا قیام قیامت احسان رہے گا جسے رہتی دنیا تک کے عاشقان رسالت مآبﷺ یاد رکھیں گے۔
ملک پاکستان کو اسلامی آٸین دینے کا سہرا بھی جمعیت کے سر جاتا ہے ورنہ یہ ملک آج ایک سیکولر اسٹیٹ ہوتا۔
جمعیت جب کسی حکومت کے ساتھ شریک اقتدار ہوتی ہے تو ان کے اندر رہتے ہوۓ ان سے پوچھتی بھی ہے اور متنبہ بھی کرتی ہے۔
یادرہے جب پی پی کے دور حکومت میں ناموس رسالت قانون میں ترمیم کرنے کی کوشش کی گٸی تھی تب بھی میدان میں جمعیت علمإ اسلام ہی آٸی تھی۔
اور تمھیں یاد ہوگا جب کراچی میں کھڑے ہو کر امریکہ اور اس کے پٹھوٶں کو للکارتے ہوۓ قاٸد جمعیت نے کہا تھا کہ
تم اگر ویٹی کن سٹی سے وعدہ کر کے آۓ ہو کہ ناموس رسالت کا قانون ختم کریں گے تو یاد رکھو ہم نے بھی روضہ رسول ﷺکے سامنے کھڑے ہو کر وعدہ کیا ہے کہ ناموس رسالت ﷺ کے قانون کے لیے ہم جان کی بازی لگا دیں گے مگر تمھیں ہاتھ تک نہیں لگانے دیں گے۔
اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ایک للکار نے انہیں واپس اپنے بلوں میں دبکنے پر مجبور کر دیا تھا۔
ٹرانس جینڈر بل بھی اسی کڑی کی ایک کڑی تھا مگر جمعیت علما ٕ اسلام اپنے حصے کاکام کر رہی ہے اور اسی وقت تجاویز مرتب کر کے کمیٹی تک پہنچا دی گٸیں تھیں مگر اس پر کام روک دیا گیا اب جب دوبارہ جمعیت اقتدار میں آٸی تو نہ صرف ٹرانس جینڈر بل بلکہ وہ تمام اسلام مخالف اور عوام مخالف بل سب کی باری آۓ گی علماء کا وفد میاں شہباز شریف سے ملاقات کر چکا ہے اور مدارس پر لگاٸی گٸ چودہ پابندیاں اور اکاٶنٹس کی بندش سمیت تمام مساٸل گوش گزار کر کے ان کے حل کی طرف توجہ دلا دی گٸی ہے۔
اور مولانا فضل الرحمن نے ان تمام پر اپنے خصوصی نماٸیندے کمیٹیوں میں شامل کرواکر جلد از جلد ان میں سفارشات مرتب کرنے کا حکم دیدیا ہے۔
ان شاء اللہ قوم کو اس عذاب سے نکالا جاۓ گا اور یہودی ایجنٹوں کے سب کیے کراۓ پر پانی پھیر دیا جاۓ گا یاد رکھا جاۓ ان ایجنٹوں کو مولویوں سے اسی لے اتنی نفرت ہے کہ پچھتر سالوں میں انکے ایجنڈے کے نفاذ میں رکاوٹ یہی مولوی طبقہ ہے۔
صلیبی صیہونی اپنی سازشیں کرتے ہیں اور اتنی محنت کر کے جب نتیجے پر پہنچتے ہیں تو پھر حقیقی ارطغرل ان کی محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
ٹرانس جینڈر بل اور پاکستان تحریک انصاف
اگرکسی نے جاننا ہے کہ اسمبلی میں علمإ کے کردار کے حوالے سے دشمنان اسلام کو کتنی تکلیف ہے تو قادیانیوں کے خلیفہ مرزا مسرور سے پوچھ لے۔
وہ یہ بھی بتادے گا کہ کون ان کے حق میں ہے اور کون ان کےخلاف
قوم کو علماء کرام پر اعتماد کرنا ہوگا ورنہ اس ملک کو سیکولراسٹیٹ بننے سے کوٸی نہیں روک سکتا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں