ٹرانسجینڈر بل کے ساتھ ڈومیسٹک وائلنس بل بھی پاس ھوا ہے
ٹرانسجینڈر بل کے ساتھ ڈومیسٹک وائلنس بل بھی پاس ھوا ہے
ایک طرف پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان پاکستانی عوام میں ٹرانس جینڈر کے حوالے سے جھوٹے پروپیگنڈا پر مبنی پوسٹیں مختلف سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر پھیلا رہے ہیں
جس کے بارے میں ہم نے اپنی پچھلی پوسٹ میں ثبوتوں کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ یہ ٹرانسجینڈر بل 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں پاس کرایا گیا
جسکا لنک یہ ھے
ٹرانس جینڈر بل اور پاکستان تحریک انصاف
اسی طرح ایک اور بھی پاس کروایا گیا ہے جس کا نام "ڈومیسٹک وائلنس بل" ہے۔
بظاہر تو ڈومیسٹک وایلنس بل میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ بل مظلوم خواتین جن پر تشدد کیا جاتا ھے اور بچوں پر تشدد کے خلاف بنایا گیا ہے
لیکن اگر اس بل کی تفصیل پر غور کیا جائے تو یہ بل ھمارے خاندانی نظام کیلئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر آپکا بچہ یا آپکی بیوی کوئی ایسا عمل کرے جو آپکی نظر میں مناسب نہ ہو اور آپ کے کئی بار منع کرنے کے باوجود بھی اپنے عمل سے باز نہ آئے جسکی وجہ سے آپکو ان پر ہاتھ اٹھانا پڑجائے تو یہ عمل آپکا جرم کہلائے گا اور اگر اپکا بچہ یا آپکی بیوی آپکے اس عمل کی وجہ سے آپکے خلاف تھانے چلی جائے تو آپکو تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ اور جرمانہ نہ ادا کرسکنے کی صورت میں مزید تین سال قید کی سزا ہوسکتی ھے
یہ ھیں وہ سکرین شاٹ جس میں ڈومیسٹک وائلنس بل کے پاس کروانے کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا
جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عطاء الرحمان صاحب نے اس وقت واضح کیا تھا کہ بجائے اسکے کہ اس بل کو وزارت مذہبی امور کی کمیٹی میں بھجا جاتا اسکے بجائے چور راستہ اپناتے ہوئے اس بل کو انسانی حقوق کمیٹی سے پاس کروایا گیا جہاں جمعیت علمائے اسلام کا ایک بھی رکن موجود نہیں تھا۔



تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں