قائد جے یو آئی مولانا فضل الرحمن صاحب کا درد بھرا بیان

قائد جے یو آئی مولانا فضل الرحمن صاحب کا درد بھرا بیان


قائد جے یو آئی مولانا فضل الرحمن صاحب کا درد بھرا بیان


نحمدہ و نصلی علی رسوله الکریم


عزت مآب جناب وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف صاحب، اُن کے ساتھ تشریف لائے ہوئے ہمارے نہایت قابل احترام معززین، یہاں علاقے کے معززین بھی اور متاثرین بھی،


 ہم وزیراعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اِس کڑے اور مشکل وقت میں انہوں نے ہماری داد رسی کی، بنفس نفیس ہمارے اِس پسماندہ علاقے میں اور آج کے اِس سیلاب زدہ علاقے میں خود تشریف لائے اور آج ہمارے درمیان وہ تشریف فرما ہے، میں دل کی گہراٸیوں سے اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔



جناب وزیراعظم پاکستان! آپ جس علاقے میں تشریف لائے ہے یہ دو اضلاع پر مشتمل ایک ڈویژن ہے، آپ کو ہمارے ڈویژنل آفیسرز نے، این ایچ اے آفیسرز نے نقصانات کی تفصیل بتائی ہے، اور لوگوں کی اِس موقعے پر جو داد رسی میں انہوں نے جو محنت اور کوشش کی ہے، میں اُن کی اِن کاوشوں کی تعریف کرتا ہوں، انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں، اور جتنا انسان کے بس میں تھا، جو اُن سے ہوسکا، اِسی طریقے سے جو رفاہی ٹیمیں ہیں اور وہ جماعتیں جنہوں نے میدان میں اتر کر اِس مصیبت زدہ لوگوں تک پہنچے، کس طرح پہنچے؟


 یہاں ہمیں بریفنگ دی گئی کہ اِس پل سے آگے ہماری رسائی ممکن نہیں تھی اور لوگ پھنسے ہوئے تھے، ہم نے درخواست کی اور آپ کے تعاون سے ہیلی کاپٹر ہمیں مہیا کئے گئے، ہمارے فوجی جوان وہاں موقعے پر پہنچے، لوگوں کو ریسکیو کیا، وہاں سے نکالا، اور جتنی امداد اُن کو پہنچ سکتی تھی وہ پہنچانے کی پوری کوشش کی گٸی، تو ظاہر ہے کہ اِس وقت مسئلہ انسانیت کا تھا، جس نے بھی کام کیا ہے انسانی ہمدردی کے بنیاد پر کیا ہے، چاہے حکومت کی سطح پر ہے، وفاق کی سطح پر ہے، یہاں ہماری ڈویژنل انتظاميہ ہو یا ضلعی انتظاميہ ہو، اُن کے کارندوں نے اور فوجی جوانوں نے جو محنت کی ہے۔


 ہم دل سے اُس کی قدر بھی کرتے ہیں، تمام جو رفاہی تنظیمیں ہیں یا سیاسی جماعتوں کے وہ شاخیں کہ جنہوں نے اِس رفاہی کام میں بھرپور حصہ لیا، ہم تمام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، کسی نے تھوڑا کیا یا زیادہ کیا، لیکن اپنے بساط کے مطابق ہر ایک نے حصہ ڈالا ہے، اور یہ سب کچھ ایک انسانی ہمدردی کے بنیاد پر ہوا ہے، اِس میں نہ کوئی پارٹی پالیٹکس تھی۔


نہ کوئی سیاسی اختلافات بیچ میں آئے، نہ ہم نے یہ دیکھا کہ اِس کا تعلق کس پارٹی سے ہے، بلکہ اب بھی ہم مصروف عمل ہیں کہ کس طریقے سے ہم اِن کو سہولت مہیا کرسکے، ریلیف دے سکے۔


سب سے پہلی بات تو یہ کہ سیلاب آگیا اور دیہاتوں میں داخل ہوگیا، لوگ جتنا جلدی وہاں سے نکل سکتے تھے وہ نکلے اور سب سے پہلا کام ہمارا ریسکیو کرنا تھا، اُس کے بعد ظاہر ہے کہ پانی میں گھرے ہوئے لوگ وہ کوئی آپ خشک راشن پہنچاتے تو وہ نہیں پکا سکتے تھے، تو ہمت کی گئی اور پکی پکائی راشن اُن تک پہنچائی گئی، بھرپور کوشش کی گئی، پھر اُس کے بعد خشک راشن اُن تک پہنچائی گئی، نقد رقوم بھی اُن تک پہنچائے گئے، تاکہ وہ خود اگر اپنا انتظام کرسکے تو وہ کرسکے۔


اور یہاں تک ہمیں رپورٹ ہوا کہ ہماری ٹیم جب یہاں آئی ہے تو کہا کہ ہمیں کھانا نہیں چاہیے، ہم تو گھروں سے جوتے چھوڑ کر بھاگے ہیں، خواتين نے کہا کہ ہم تو برقعے چھوڑ کر بھاگے ہیں، لہذا ہمیں اِس چیز کی ضرورت ہے ہمیں مہیا کی جائے، بڑے کربناک قسم کی تصاویر سامنے آتی رہی، اور اُس کے بعد اب جو صورتحال ہے جب پانی ذرا اتر گیا ہے تو اِس وقت جہاں جہاں ممکن ہے لوگ واپس اپنے گھروں میں جارہے ہیں، پھر انہوں نے گھر کو بنانا بھی ہے، اُس کے جیب میں اتنی طاقت ہے کہ وہ گھر بناسکے یہ بھی اُن کے لیے ایک مسٸلہ ہے۔


 لیکن جب تک وہ گھر میں نہیں جاسکتا اُس کو کم از کم سایہ تو چاہئے، خیمہ تو چاہئے، تو اِس حوالے سے بھی آپ کے توجہ کی ضرورت ہے، آپ تشریف لائے ہیں، یہاں کے لوگوں کو دوبارہ بحال کرنا ہے، اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں سیلاب سے بچنے کے لیے کچھ مستقل بنیادوں پر کام کرنا ہوگا، آج ہمارے پاس ایک گومل زام ہے، جب وہ بھرتا ہے تو ہمیں انتظامیہ بتا دیتی ہے کہ پانی جو ہے وہ ڈیم میں بھر رہا ہے اور اب ہمیں ڈیم سے پانی خالی کرنا ہوگا، آپ لوگ اپنا انتظام کرلے۔


وہ لوگ کم از کم جانیں بچاسکتے ہیں انہیں اتنا موقع مل جاتا ہے، لیکن ٹانک زام ہو یا کوہ سلیمانی کی جو روزکوہی نظام ہے وہ ابھی بھی جب بھی سیلاب آتا ہے تو ہمیں تباہ و برباد کردیتا ہے، ہمیں کچھ چھوٹے ڈیمز بھی چاہیے، جس طرح ٹانک زام چاہیے، چوہدوان زام چاہیے، اسی طریقے سے ہمیں درابڑ زام چاہیے، نواب حیدر زام چاہیے، یہ جو ہمارا گومل زام ہے یہ میگا ٹاٸم ایک پروجیکٹ ہے اور جو ٹانک زام ہے یہ میڈیم ٹاٸپ اور باقی جو ہے وہ چھوٹے زام ہے، یہ اگر تعمیر ہو جاتے ہیں تو ہم مستقل طور پر سیلاب سے بچنے کی کوٸی تدبیر کرسکیں گے، ورنہ اسطرح تو اناً فاناً ایک آفت آجاتی ہے اور لوگ گھروں میں سوئے ہوئے ہیں۔


 میں آپ کو عرض کروں کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں بہت بڑا ہاسپٹل ہے مفتی محمود ہاسپٹل، مجھے خود لوگوں نے بتایا کہ ہم مریضوں کے ساتھ کمروں میں بیٹھے ہوئے تھے اور پانی چڑھ آیا اور کس طرح ہم نے مریضوں کو اٹھاکر اُس موقعے پر باہر نکالا ہے، کس دقت کے ساتھ نکالا ہے، ہمارے سی آر بی سی کا پورا ایریا، ائیرپورٹ پانی سے بھرگیا، اور آبادیوں کو بچانے کے لیے بڑے بڑے روڈ ہمیں کاٹنے پڑے ہیں تاکہ پانی کا رخ تبدیل کرکے آبادیوں کو بچایا جاسکے۔


 شہر ڈیرہ اسماعیل خان وہ الحَمْدُ ِلله بڑی تیزی کے ساتھ جب روڈ کاٹے گیے، این ایچ اے نے پوری کارواٸی کی تو پانی کا رخ موڑا جاسکا، اور جب پانی کا رخ آپ ایک جگہ موڑتے ہیں تو پھر آگے جاکر کچھ اور لوگ اُس سے متاثر ہوتے ہیں، تو یہ درابند پوری تحصیل مشرق کی طرف جاتی ہے تو فروہا کے پورے تحصیل کو ہٹ کرتا ہے، اور اسی طرح ہوا ہے۔


تو یہ ساری وہ مشکل ہے جو اِس وقت اس خطے کے لوگوں پر گزری ہے، اس کے علاوہ کوہستان کی صورتحال آج بھی قابل توجہ ہے کہ وہاں پر لوگ ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں اور اُن کے پاس کھانے پینے کی چیزیں بھی ختم ہورہی ہے، اسی طریقے سے سوات میں جو تباہی آئی ہے جس طرح بحرین اور کالام میں کئی کئ منزلہ عمارتیں گری ہے اور پانی کے اندر بہے ہیں، اور دیر میں کوہستان کی طرف جو پانی آیا ہے۔


 تو یہ بہت بڑا ہمارے صوبے کا بھی نقصان ہے اور جس سرزمین پر آپ تشریف فرما ہے اُس کا بھی نقصان ہے، اِس وقت بھی اِس پانی کے اندر جو ہمارے سامنے ہے ایک ٹرک ڈوبا ہے اور اُس میں ایک لاش ابھی بھی ہے، نہ ٹرک کا پتہ ہے نہ اُس انسان کا پتہ چل رہا ہے، اُس کو ریسکیو کرنے کے لیے بھی ہمیں ایفرٹس کی ضرورت ہے اور اُس کے لیے ماہرین ک ہمیں ضرورت ہوگی، تو بہر حال یہ اندازہ آپ کو لگانا ہوگا۔


دو چار روز پہلے میں نے بھی انتظامیہ کی ایک میٹنگ بلائی تھی اور اُن سے وہ تمام تفاصیل میں نے جانی تھی کہ کیا نقصان ہوئے ہیں اور کتنے ہوئے ہیں، انہوں نے بھی ایک اس کی سمری بنائی ہے اور ان شاء اللہ جب ہم اسلام اباد میں میٹنگ کریں گے تو وہ ساری چیزیں ہم آپ کے خدمت میں پیش کریں گے، کہ آپ اُس حوالے سے فوری طور پر اور دل کھول کر مدد کا اعلان کرسکے۔



آپ کا بہت بہت شکریہ، امیر مقام صاحب آپ کا بھی بہت بہت شکریہ، اور جو دوست آئے ہیں ان سب کا میں شکریہ ادا کرتا ہوں۔


واٰخر دعوانا اَن الحمد لله رب العلمین۔


ڈیرہ اسماعیل خان: قائدِ جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کا درد بھرا خطاب 07 ستمبر 2022

 

تبصرے