کیا ٹرانس جینڈر بل پر جمعیت نے کھل کر مخالفت کی
کیا ٹرانس جینڈر بل پر جمعیت نے کھل کر مخالفت کی
یہ مسودہ سب سے پہلے تحریک انصاف کی سینیٹر ثمینہ سعید، مسلم لیگ ن کی سینیٹر کلثوم پروین، پیپلزپارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد اور پاکستان مسلم لیگ ق کی سینیٹر روبینہ عرفان کی جانب سینیٹ میں لایا گیا۔
7مارچ 2018ء کو پیپلزپارٹی کے سینیٹر نعیم احمد خواجہ نے سینیٹ آف پاکستان میں جبکہ 8مئی 2018 کو پیپلزپارٹی کے ایم این اے نوید قمر نے قومی اسمبلی میں منظوری کےلئے پیش کیا۔
پاکستان تحریک انصاف جو ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی بظاہر تو مخالف نظر تو آتی ہے لیکن درحقیقت ایسا ہے نہیں، اس شریعت مخالف بل میں تمام لبرل ایک پیج پر نظر آئے نہ کوئی چور رہا نہ ڈاکو بیرونی ایجنڈا مکمل کرنے کیلئے پی ٹی آئی ، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ایک دوسرے کے ساتب گھل مل گئے۔
جبکہ جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی نے اس مسودہ کے خلاف اپنی تجاویز پیش کی اور بل کو وزارت مذہبی امور کی کمیٹی کو بھیجنا چاہا لیکن جمعیت کی رائے کو ان تین پارٹیوں نے ملکر مسترد کردیا۔
جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کی جانب سے مخالفت کی تقریر ریکارڈ کا حصہ ہے جبکہ بل پاس ہونے کے پانچ دن بعد مولانا فضل الرحمان صاحب نے مینار پاکستان جلسہ میں سرعام اس کی مذمت کی اور قوم کو آگاہ کیا جس کی خبریں اخباروں میں بھی آئیں، اس پر مضامین لکھے گئے۔
چونکہ اس وقت ساری لبرل پارٹیوں کی خواہش تھی کہ بل پاس ہو اس لیے جمعیت علمائے اسلام کی بات کسی کو سنائی نہیں دی ، آج انہی لبرلز کی طرف سے جنکا ایجنڈا علماء سے لوگوں کو بدظن کرنا ہے سوشل میڈیا پر اس ایشو کو جھوٹی پوسٹوں کے ذریعے شدومد کے ساتھ اس معاملے کو اچھالا جارہاہے تاکہ انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام کو نقصان پہنچایا جائے تاکہ جے یو آئی کے کم سے کم نمائندے کامیاب ہو اور لبرل اپنی خواہشات پر مبنی قوانین بنانے میں دقت محسوس نہ کرے-
عوام سے درخواست ہے کہ ایسے اسلام دشمن عناصر کو پہچان لیں اور الیکشن میں انکا بھر پور بائیکاٹ کرکے صرف ان لوگوں کو اسمبلی میں بھیجیں جو قال اللہ و قال الرسول کے داعی ہوں اور جو ھر دکھ درد میں آپکے شانہ بشانہ کھڑے ہوں جیسے کہ حالیہ سیلاب میں علماء اور مدارس کے طلباء نے اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے امدادی سرگرمیوں میں صف اول دستے کے طور کا خدمات فراہم کیں۔
تحریر
نوک پلک کی درستگی کے بعد شایع کیا گیا

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں